دمشق

نور الدین زنگی نے 1154 میں بیمارستانِ نور الدین کی بنیاد رکھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر ایک صلیبی شہزادے کے فدیے کی رقم سے ہوئی تھی۔ یہاں سب کو مفت علاج…
نور الدین زنگی نے 1154 میں بیمارستانِ نور الدین کی بنیاد رکھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر ایک صلیبی شہزادے کے فدیے کی رقم سے ہوئی تھی۔ یہاں سب کو مفت علاج فراہم کیا جاتا تھا اور یہ طب کی تعلیم کا ایک مرکز تھا، جہاں قرونِ وسطیٰ کی اسلامی دنیا کے نامور اطبا کام کرتے اور اپنے شاگردوں کو تربیت دیتے تھے۔ یہ صدیوں تک ہسپتال کے طور پر کام کرتا رہا۔ یہ عمارت، اپنے تراشیدہ پتھر کے داخلی دروازے اور شہد کے چھتے جیسی ساخت کے گنبد (مقرنس) کے ساتھ، پرانے شہر میں سوق الحمیدیہ کے قریب واقع ہے۔ اب اس میں عرب دنیا کی طب اور سائنس کا عجائب گھر قائم ہے۔