دمشق

مسجد سیبائیہ دمشق کے مملوک گورنر سیبای نے 1509 سے 1515 کے درمیان مسجد اور مدرسے کے طور پر تعمیر کروائی تھی۔ عثمانیوں کے شہر میں داخل ہونے سے ایک سال پہلے مکمل…
مسجد سیبائیہ دمشق کے مملوک گورنر سیبای نے 1509 سے 1515 کے درمیان مسجد اور مدرسے کے طور پر تعمیر کروائی تھی۔ عثمانیوں کے شہر میں داخل ہونے سے ایک سال پہلے مکمل ہونے والی یہ عمارت دمشق کی آخری عظیم مملوک عمارت شمار ہوتی ہے، اور شہر کے لوگ اسے عرصۂ دراز سے الصباحیہ کہتے آئے ہیں۔ یہ باب الجابیہ کے بالکل باہر درویشیہ سڑک پر، درویش پاشا اور سنان پاشا کی مساجد کے قریب واقع ہے۔ اس کے سامنے کے حصے میں باری باری سیاہ اور سفید پتھر لگائے گئے ہیں، جو مملوک دور کے دمشق کا مخصوص طرز ہے، اور اس کا بلند مینار پرانے شہر کے مغربی سرے کی ایک نمایاں پہچان ہے۔ یہ اب بھی مسجد کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔