دمشق
بنو اسد سے تعلق رکھنے والی خولہ بنت ازور ایک صحابیہ اور ابتدائی دورِ اسلام کی مشہور ترین خواتین میں سے تھیں۔ فتحِ شام کے دوران انہوں نے خالد بن ولید کی قیادت…
بنو اسد سے تعلق رکھنے والی خولہ بنت ازور ایک صحابیہ اور ابتدائی دورِ اسلام کی مشہور ترین خواتین میں سے تھیں۔ فتحِ شام کے دوران انہوں نے خالد بن ولید کی قیادت میں اپنے بھائی ضرار بن ازور کے شانہ بشانہ جنگ لڑی۔ تاریخی روایات میں مذکور ہے کہ جب ضرار دمشق کے قریب گرفتار ہوئے تو وہ تنہا سوار ہو کر انہیں چھڑانے نکلیں، اور جنگِ یرموک میں انہوں نے مسلمانوں کے لشکر کی خواتین کی قیادت کی۔ ان کا انتقال شام میں تقریباً 18 ہجری (639) میں ہوا۔ ان کی قبر باب توما کے بالکل باہر ایک چھوٹے سے مزار میں ہے، جو دریائے بردیٰ کے کنارے ان ہی کے نام سے منسوب باغ کے پاس واقع ہے۔ اسی مزار میں صحابی شرحبیل بن حسنہ بھی مدفون ہیں۔ باب توما، ضرار بن ازور مسجد اور شیخ ارسلان الدمشقی کی قبر، سبھی یہاں سے چند منٹ کی پیدل مسافت پر ہیں۔