طائف
سوق عکاظ اسلام سے پہلے کے عرب کا سب سے بڑا موسمی بازار تھا، جو ہر سال ذوالقعدہ کے مہینے میں طائف کے شمال مشرق میں واقع میدان میں لگتا تھا۔ جزیرہ نمائے عرب بھر…
سوق عکاظ اسلام سے پہلے کے عرب کا سب سے بڑا موسمی بازار تھا، جو ہر سال ذوالقعدہ کے مہینے میں طائف کے شمال مشرق میں واقع میدان میں لگتا تھا۔ جزیرہ نمائے عرب بھر سے قبائل تجارت کرنے، تنازعات نمٹانے اور نامور شاعروں کا کلام سننے آتے تھے۔ مکہ میں قیام کے برسوں کے دوران نبی محمد ﷺ عکاظ اور دوسرے بازاروں میں تشریف لے جاتے تھے تاکہ وہاں جمع قبائل کو صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دیں۔ اکثر آپ ﷺ کے مخالفین بھی پیچھے پیچھے جاتے تاکہ لوگوں کو آپ ﷺ سے دور کریں۔ ابتدائی اسلامی دور میں اس بازار کی رونق ماند پڑ گئی، لیکن اب اس مقام کو ایک ثقافتی اور ورثے کے مرکز کے طور پر بحال کیا گیا ہے، جہاں ہر سال ایک میلہ منعقد ہوتا ہے۔ یہ طائف کے مرکز سے تقریباً پینتیس کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔