مدینہ

سولہویں صدی میں مدینہ میں زاویوں، یعنی ایسی قیام گاہوں کی تعداد جہاں زائرین اور مقامی باشندے ٹھہر سکتے تھے، تقریباً دس سے بڑھ کر کئی سو ہو گئی تھی۔ ہر کمرہ…
سولہویں صدی میں مدینہ میں زاویوں، یعنی ایسی قیام گاہوں کی تعداد جہاں زائرین اور مقامی باشندے ٹھہر سکتے تھے، تقریباً دس سے بڑھ کر کئی سو ہو گئی تھی۔ ہر کمرہ ایک شخص کو دیا جاتا تھا۔ ان میں چالیس کمروں پر مشتمل ایک بڑا زاویہ بھی تھا جسے عثمانی سلطان مراد سوم نے 1577-78 میں مسجد قبا کے قریب تعمیر کروایا تھا۔ اس زاویے کا کوئی حصہ باقی نہیں رہا۔ اس کا مقام مسجد قبا سے مشرق کی جانب تھوڑی سی پیدل مسافت پر ہے۔