مدینہ

قریش کے قبیلے بنو مخزوم سے تعلق رکھنے والے خالد بن ولید نے اسلام قبول کرنے سے پہلے غزوۂ اُحد میں مکہ کے سوار دستے کی قیادت کی تھی۔ انہوں نے 8 ہجری میں اسلام…
قریش کے قبیلے بنو مخزوم سے تعلق رکھنے والے خالد بن ولید نے اسلام قبول کرنے سے پہلے غزوۂ اُحد میں مکہ کے سوار دستے کی قیادت کی تھی۔ انہوں نے 8 ہجری میں اسلام قبول کیا، جب وہ عمرو بن العاص کے ساتھ مدینہ آئے۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں کے صفِ اول کے سپہ سالار بن گئے، اور جنگِ موتہ کے بعد نبی ﷺ نے انہیں سیف اللہ، یعنی اللہ کی تلوار، کا لقب عطا فرمایا۔ مدینہ میں ان کا گھر مسجد کے قریب اس علاقے میں واقع تھا جو اب مسجد نبوی کی توسیع میں شامل ہے۔ خالد نے بعد میں ابوبکر اور عمر کے ادوار میں عراق اور شام کی مہمات کی قیادت کی، جن میں جنگِ یرموک بھی شامل تھی۔ ان کا انتقال 21 ہجری میں شام کے شہر حمص میں ہوا، جہاں ان کی مسجد اور قبر آج بھی موجود ہیں۔