لاہور
یہ دروازہ 1655 سے 1656 کے دوران شاہ جہاں کے دربار سے وابستہ ایک ایرانی امیر، مرزا سلطان بیگ نے اپنے تفریحی باغ، گلابی باغ یا باغِ گلاب کے داخلی دروازے کے طور…
یہ دروازہ 1655 سے 1656 کے دوران شاہ جہاں کے دربار سے وابستہ ایک ایرانی امیر، مرزا سلطان بیگ نے اپنے تفریحی باغ، گلابی باغ یا باغِ گلاب کے داخلی دروازے کے طور پر تعمیر کروایا تھا۔ بعد میں اسی باغ میں شاہ جہاں کی رضاعی ماں، دائی انگہ کا مقبرہ تعمیر ہوا۔ یہ دروازہ اپنی بھرپور کاشی کاری اور پلستر پر کی گئی خطاطی کے لیے مشہور ہے۔ اس کا سامنے کا رخ تین حصوں پر مشتمل ہے، جن کے درمیان ایک بلند دو منزلہ محراب داخلی راستے تک لے جاتی ہے اور دونوں جانب محرابی کھڑکیوں کے جوڑے ہیں۔ دائی انگہ کا مقبرہ اس دروازے سے آگے باغ کے اندر واقع ہے۔