قاہرہ
الصالح طلائع کی مسجد 1160 میں وزیر طلائع بن رزیک نے باب زویلہ کے بالکل باہر تعمیر کروائی تھی۔ یہ فاطمی دور میں تعمیر ہونے والی آخری مسجد ہے اور اسے سیدنا…
الصالح طلائع کی مسجد 1160 میں وزیر طلائع بن رزیک نے باب زویلہ کے بالکل باہر تعمیر کروائی تھی۔ یہ فاطمی دور میں تعمیر ہونے والی آخری مسجد ہے اور اسے سیدنا الحسین کا سرِ مبارک رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر سرِ مبارک کو اس کے بجائے محل کے پہلو میں واقع مزار میں رکھا گیا۔ مسجد دکانوں کی ایک قطار کے اوپر بلند کرکے تعمیر کی گئی تھی، جن کے کرایوں سے اس کے اخراجات پورے ہوتے تھے، اور اس کے سامنے کشتی کے پیندے کی شکل کی محرابوں والا برآمدہ ہے۔ اس کے منقش لکڑی کے دروازے اور گچ کاری اس دور کے بہترین نمونوں میں شمار ہوتے ہیں، اور یہ باب زویلہ کے بالمقابل واقع ہے۔