قاہرہ
شارع المعز لدین اللہ فاطمی دور کے قاہرہ کی مرکزی شاہراہ تھی، جو شمال میں باب الفتوح سے جنوب میں باب زویلہ تک جاتی تھی۔ اس کا نام اس خلیفہ کے نام پر رکھا گیا…
شارع المعز لدین اللہ فاطمی دور کے قاہرہ کی مرکزی شاہراہ تھی، جو شمال میں باب الفتوح سے جنوب میں باب زویلہ تک جاتی تھی۔ اس کا نام اس خلیفہ کے نام پر رکھا گیا ہے جس نے 969 میں شہر کی بنیاد رکھی تھی۔ یہاں قرونِ وسطیٰ کی اسلامی عمارتوں کا دنیا میں سب سے بھرپور مجموعہ موجود ہے۔ باب الفتوح اور شارع الازہر کے درمیان واقع اس کے شمالی نصف حصے کو بحال کر کے بڑی حد تک پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے۔ اس کے دونوں جانب مساجد، مدارس، سبیلیں اور محلات ہیں، جن میں قلاوون کا مجموعۂ عمارات، مدرسۂ برقوق اور بیت السحیمی شامل ہیں۔ شام کے وقت یہاں سب سے زیادہ رونق ہوتی ہے اور یہ سب سے زیادہ خوب صورت دکھائی دیتی ہے۔